Akkas Urdu Daily provides comprehensive news coverage for December 22, 2025, focusing on current events, political developments, and cultural happenings. This edition highlights significant news stories relevant to the Urdu-speaking community, including local and national issues. Readers can expect in-depth analysis and commentary on various topics, making it a valuable resource for staying informed. The publication serves as an essential source of information for those interested in Urdu news and current affairs.

Key Points

  • Covers major news stories from December 22, 2025, including political updates and cultural events.
  • Features analysis and commentary relevant to the Urdu-speaking community.
  • Includes local news highlights alongside national developments.
  • Serves as a key resource for readers interested in current affairs in Urdu.
Maheba Hussain Rizwi.
8 pages
Language:Urdu
Type:Article
Maheba Hussain Rizwi.
8 pages
Language:Urdu
Type:Article
43
/ 8
AKKAS
URDU
DAILY
BOBBY
CATERER
Caterers
for
Every
Ocecasion
Ph.
No.
9831155196/9051150430
Email.-
mahboobsubhani844@gmail.com
আক্কাস
قیمت:
-
3
روپے
روزنامه
کول
کاتا
عکاس
SHANDAAR
CATERER
WE
BO
ALL
TYPES
OF
EVENTS|
CORPORATE
WEDDING
|
BIRTHDAY
ORDER
&
MAN
CONTACT
US:
8910593766
|
983107479
@omail.com

PRICE:
Rs.
3/-
1
جلد
۵۹
شماره
:
۳۳۹
339
95
:Vol
سوموار
۲۲
دسمبر
۲۵ء
مطابق
يكم
رجب
المرجب
علام
ماه
رجب
المرجب
کا
چاند
نظر
آ
گیا
پھلواری
شریف
21
دسمبر
(یواین
آئی)
مولانا
مفتی
محمد
الطار
المقامی
قاضی
شریعت
مرکزی
دار
القضائی
مارت
شرعیہ
بہار،
اڈیشہ
و
جھارکھنڈ
پھلواری
شریف
پٹنہ
کے
مطابق
مورخہ
29
جمادی
الاخر
1447
مطابق
21
دسمبر
2025
بروز
اتوار
کو
مرکزی
دفتر
امارت
شرعیہ
اور
اس
کی
تمام
شاخوں
میں
چاند
دیکھنے
کا
اہتمام
کیا
گیا۔
پھلواری
شریف
اور
اس
کے
اطراف
میں
مطلع
ابر
آلود
ہونے
کی
وجہ
سے
چاند
نظر
نہیں
آیا
البتہ
مہار
شراء
راجستهان،
حیدر
آباد
اور
دیگر
مقامات
سے
عام
رویت
کی
اطلاع
موصول
ہوئی
،
رویت
ور
شہادت
کی
تصدیق
کرلی
گئی
ہے۔
اس
لئے
مورخہ
22
دسمبر
2025
بروز
پیر
کو
ماه
رجب
المرجب
1447
ھ
کی
پہلی
تاریخ
ماه
رجب
ارج
ہوگی۔
یہ
اطلاع
یہاں
جاری
ایک
پریس
ریلیز
میں
دی
گئی۔
آر
ایس
ایس
مسلم
مخالف
نہیں
آر
ایس
ایس
کو
بی
جے
پی
کے
نقطہ
نظر
سے
دیکھنا
غلط
ہے
:
موہن
بھا
گوت
ی
دی۔
آر
ایس
ایس
کے
سربراہ
موہن
بھا
گوت
نے
ہندو
توا
اور
سیکو
رزم
پر
و
نوک
الفاظ
میں
کہا
کہ
ریاست
قانون
سے
چلتی
ہے،
مذہب
سے
نہیں۔
ان
سے
پوچھا
گیا
تھا
کہ
سیکولر
زم
کے
دائرے
میں
رہتے
ہوئے
ہندوں
کا
تحفظ
کیسے
کیا
جاسکتا
ہے؟
اور
ہندو
توا
کی
بنیاد
پر
نوجوانوں
کی
تربیت
کیسے
کی
جائے؟
اس
پر
بھا
گوت
نے
تربیت
پیسے
کی
جائے
؟
اس
پر
بھا
لوت
نے
صاف
لفظوں
میں
کہا
کہ
ریاست
قانون
سے
چلتی
ہے،
مذہب
سے
نہیں۔
انہوں
نے
ہندو
تو
کو
رسومات
سے
الگ
کرتے
ہوئے
نوجوانوں
کو
یہ
پیغام
دیا
کہ
صرف
مندر
جانا
ی
ہندہ
ہوا
نہیں
ہے
بکہ
آپ
کا
رویہ
دور
کردار
ہی
آپ
کا
اصل
دھرم
ہے۔
راشٹریہ
ویم
سیوک
سمجھ
آر
ایس
ایس
کے
سر
سنگھ
چالک
ڈاکٹر
موہن
بھا
گوت
نے
کہا
ہے
کہ
ملک
کی
ترقی
کے
لیے
سماج
کو
منتظم
کرنا
ضروری
ہے۔
آج
آر
ایس
ایس
کی
100
دس
سالگرہ
کے
موقع
پر
کولکتہ
کے
سائنس
سٹی
میں
ایک
پروگرام
میں
حصہ
لیتے
ہوئے
انہوں
نے
کہا
کہ
ہندوستان
میں
ہند
و
سماج
کو
منظم
کرنے
کی
ضرورت
ہے۔
موہن
وسم
کرے
کی
ضرورت
ہے۔
موان
بھا
گوت
نے
سیکولرزم
کو
لے
کر
پائے
جانے
والے
عام
ایام
کو
دور
کرنے
کی
کوشش
کی۔
ریلوے
کرایوں
میں
26
دسمبر
سے
ہوگا
اضافہ
نئی
دہلی:
ہندوستانی
SCI
CITY
جے
پی
کے
نقطہ
نظر
سے
نہیں
دیکھا
جانا
چاہئے۔
موہن
بھا
گوت
نے
آر
ایس
ایس
حکومت
چلانے
کا
ایک
طریقہ
ہے۔
صد
سال
تریات
کے
من
می
و
کاتہ
روگرام
سے
خطاب
کرتے
ہوئے
کہا
کہ
آر
انہوں
نے
واضح
کیا
کہ
سیکولرازم
کوئی
مغربی
تصور
نہیں
جوز
برسی
مسلط
کیا
گیا
ہو
بلکہ
یہ
بھا
گوت
نے
کہا
کہ
سیکولرازم
حکومت
کی
میں
آر
ایس
ایس
100
لیکچر
سیریز
ایک
پالیسی
ہے۔
راشٹریہ
سویم
سیوک
سنگھ
(آر
ایس
ایس
کو
تنگ
یا
تقابلی
فریم
ورک
سے
نہیں
ایس
ایس
کے
سربراہ
موہن
بھاگوت
نے
سمجھا
جانا
چاہئے۔
انہوں
نے
کہا
،
اگر
آپ
وار
کے
روز
کسی
کونی
سیس
ایجنڈا
آریای
کو
سمجھا
جاتے
ہیں
تو
آپ
کو
نہیں
ہے
اور
اسے
بھارتیہ
جنتا
پارٹی
(بی
اس
کا
تجربہ
کرنا
ہوگا۔
موازنہ
کرنے
سے
غلط
وی
بی
جی
رام
جی
بل
پر
صدر
جمہور
یہ
دروپدی
مرمونے
لگائی
مہر
نئی
دہلی
صدر
جمهویه
درویدی
مرمو
گیا
ہے۔
مضافاتی
و
در
باید
به
درون
مرو
ں
نے
اتوار
(21
دسمبر
کو
وکست
اور
ماہانہ
سیزن
نگٹوں
کرایوں
میں
اس
کے
کرایوں
میں
بھی
سال
26
دسمبر
سے
نظر
ثانی
کا
اعلان
کیا،
جس
کا
مقصد
آمدنی
معهد
آمدی
میں
600
کروڑ
ضافہ
نہیں
کیا
گیا
ہے۔
تا
کہ
یہ
چینی
بنایا
جا
سکے
کہ
سفر
کم
اور
متوسط
روپے
کا
اضافہ
ہے۔
ٹکٹ
کی
قیمتوں
کے
خاندانوں
کے
لیے
ستی
ر.
بھارت
روزگار
اور
ابو
کا
مشن
مطابق
یہ
بل
منرگا
کی
جگہ
لے
گا
اور
اسے
وکست
بھارت
2047
کے
وژن
کے
مطابق
تیار
کیا
گیا
ہے۔
حکومت
کا
مقصد
گرامین
مل
این
گارنٹی
مل
2025
(وی
دیہی
علاقوں
میں
آمدتی
کے
تحفظ
کو
مضبوط
بی
جی
رام
جی
)
کو
منظوری
دے
دی۔
صدر
کرنے
کے
ساتھ
ساتھ
پائیدار
پیداواری
جمہوریہ
کی
منظوری
کے
ستھ
اب
یہ
بل
قانون
اثاثوں
کی
تعمیر
کرتا
ہے،
تاکہ
ہمہ
جہت
اور
بن
گیا۔
اس
سے
قبل
یہ
بل
پارلیمنٹ
کے
متوازن
ترقی
کو
فروغ
مل
سکے
۔
قانون
کے
آمدنی
والے
دونوں
ایوانوں
میں
پاس
ہو
چکا
تھا۔
نئے
التزامات
کے
تحت
خواہش
مند
دیہی
رہے۔
پچھلی
قانون
تحت
اب
دی
خاندانوں
کو
ہر
اندنوں
کو
کم
از
126
دن
کا
روزگار
انور
م
کا
مالی
سال
125
دن
کے
قانونی
اجرت
فراہم
کرنا
حکومت
کی
قانونی
ذمہ
داری
والے
روزگار
کی
ضمانت
دی
جائے
گی
جو
ہوگی۔
مزدوری
کی
ادائیگی
ہفتہ
وار
یا
زیادہ
پہلے
100
دن
تھی۔
حکومت
اس
بل
کو
آئندہ
سے
زیادہ
15
دنوں
کے
اندر
کرنا
لازمی
سال
یکم
اپریل
سے
نافذ
کرنے
کی
تیاری
قرار
دیا
گیا
ہے۔
مقررہ
وقت
کے
اندر
میں
ہے۔
یہ
مجوزہ
قانون
20
سال
پرانے
ادائیگی
نہ
ہونے
کی
صورت
میں
تاخیر
کا
ڑھانے
کے
لیے،
ریلوے
ای
افرادی
مہ
گاندھی
مین
رول
ایلامن
مع
ہونے
کا
بھی
الزام
رکھا
گیا
ہے۔
ئے
ڈھانچے
کے
تحت،
مسافر
عام
کلاس
دہائی
کے
دوران،
ہندوستانی
ریلوے
نے
میں
215
کلو
میٹر
سے
زیادہ
کے
سر
پر
1
اپنے
نیٹ
ورک
اور
آپریشنز
کو
نمایاں
طور
پر
یے
فی
کلو
میٹر
اضافی
او
میل
اور
ایکسپریس
پھیلایا
ہے،
یہاں
تک
کہ
ملک
کے
دور
دراز
نان
اے
سی
اور
اے
سی
کلاسز
کے
لیے
2
کے
کونوں
تک
پہنچ
گیا
ہے۔
اس
اعلیٰ
سطح
کے
جیسے
فی
کلو
میٹر
اضافی
ادا
کریں
گے۔
500
آپریشنز
کو
سپورٹ
کرنے
اور
حفاظت
کو
مزید
کلو
میٹر
کے
نان
اے
سی
سفر
پر
جانے
والے
مسافر
اپنے
سفر
کے
لیے
اضافی
10
روپے
ادا
کر
کی
2015
کلو
میٹر
سے
چھو
ادا
کریں
گے۔
215
کلومیٹر
سے
چھوٹے
قوت
میں
اضافہ
کر
رہا
ہے۔
نیا،
افرادی
گارنٹی
ایکٹ
(
مریکا)
کی
جگہ
لے
گا۔
اس
واضح
رہے
کہ
وی
بی
جی
رام
چی
بل
زمین
می
زبردستا
قوت
کی
لاگت
بڑھ
کر
1,15,000
بل
کے
تحت
روزگار
کی
قانونی
ضمانت
اب
اپوزیشن
کی
زبردست
مخالفت
کے
دوران
قوت
کی
لاگت
بڑھ
کر
1,15,000
میں
کے
تحت
کی
قانوی
ضمانت
اب
روٹس
پر
سفر
کرنے
والے
مسافروں
کے
کروڑ
روپے
ہو
گئی
ہے۔
پشن
کی
لاگت
100
دنوں
کے
بجائے
125
تک
بڑھ
گئی
جمعرات
(18دسمبر
کو
پارلیٹ
میں
پاس
کروڑ
روئے
ہو
گئی
ہے۔
ہے۔
مرکزی
دیہی
ترقی
کی
وزارت
کے
لیے
ٹکٹ
کی
قیمتوں
میں
کوئی
اضافہ
نہیں
کیا
بڑھ
کر
60
کروڑ
روپے
ہو
گئی
ہے۔
کشمیر
میں
برف
باراں
سے
عوام
خوان
خوش
شانداں
سری
مگر
21
دسمبر
(یو
این
آئی)
ادی
کشمیر
میں
طویل
خشک
موسی
صورتحال
کے
بعد
پہاڑی
و
سیاحتی
مقامات
پر
برف
اری
اور
میدانی
علاقوں
میں
بارشی
اہلیان
وادی
کے
لئے
خوشی
و
مسرت
کی
نوید
لے
کر
آئی
ہیں۔
جہاں
وادی
کے
سیاحتی
مقامات
الخصوص
شہرہ
آفاق
سیاحتی
مقام
لمرگ
میں
موجود
غیر
مقامی
سیاح
تازہ
برف
باری
سے
لطف
اندوز
ہو
رہے
ہیں
وہیں
وادی
میں
عوام
و
خواص
کے
چہروں
پر
بھی
خوشی
و
شادمانی
کے
آثار
نظر
آ
رہے
ہیں۔
وادی
ہے
وہیں
زراعت
کاری
کے
لئے
بھی
استعمال
کیا
جاتا
ہے
۔
وادی
میں
زراعت
کے
ساتھ
ساتھ
شعبہ
سیاحت
بھی
موسم
سرما
میں
برف
وہارا
پر
مصر
ہے۔
سیاحت
سے
بڑے
لوگوں
کا
ماننا
ہے
کہ
وادی
کے
سیاحتی
مقامات
پر
برف
باری
سے
لطف
اندوز
ہونے
کے
لئے
غیر
مقامی
سیاحوں
کی
بھیڑ
ہمیشہ
بڑھ
جاتی
ہے۔
ان
کا
کہنا
ہے
کہ
موسم
سرما
میں
بیشتر
سیاح
برف
باری
سے
الطف
اندوز
ہونے
کے
لئے
ہی
وارد
وادی
ہوتے
ہیں
لہذا
اس
سیزن
میں
برف
باری
کے
کسان
خاص
طور
پر
خوشی
سے
پھولے
آئے
گی،
اور
کھیت
کھلیانوں
میں
بھی
تازگی
تشویش
ناک
حد
تک
اضافہ
ہورہا
تھا۔
ان
کا
ہونا
از
حد
ضروری
ہے
۔
جموں
و
کشمیر
کے
نہیں
سارہے
ہیں
کیونکہ
ان
کے
کھیتوں
میں
پیدا
ہوگی
۔
انہوں
نے
کہا:
برف
و
باراں
کہنا
ہے
کہ
اب
برف
باراں
سے
یہ
سب
وزیر
اعلی
عمر
عبداللہ
نے
بھی
کشمیر
میں
سرمائی
وئی
ہوئی
فصلوں
کا
کہیں
کوئی
نام
ونشان
سے
ہی
ہماری
کھیت
کھلیا
نوں
بلکہ
دوسرے
خطرات
ملتے
ہوئے
نظر
آ
رہے
سیاحت
کے
لئے
برف
باری
کو
اہم
قرار
موجود
نہیں
تھا۔
غلام
رسول
نامی
ایک
کسان
پیر
پودوں
کی
آن
بان
اور
شان
ہے
۔
وادی
ہیں۔
ماہرین
کے
مطابق
وادی
میں
موسم
دیا۔
ان
کا
کہنا
تھا
کہ
وادی
میں
برف
پوں
کی
ان
ستان
ہے
۔
وادی
ہیں۔
ے
نایا
یہ
بارش
کے
قطرے
نہیں
بلکہ
میں
طویل
نش
موی
صورتحال
کے
باعث
سرما
میں
برف
باری
اور
بارشوں
کا
ہونا
سیاحوکی
بڑی
تعداد
میں
باعث
بین
ہمارے
کھیت
کھلیانوں
پر
ہیرے
جواہر
کی
جہاں
دریا،
ندی
نالے
اور
چشمے
سوکھ
رہے
انتہائی
اہمیت
کا
حامل
ہے۔
ان
کا
کہنا
ہے
کہ
جائے
گی۔
یہی
وجہ
ہے
کہ
جب
محکمہ
برسات
ہو
رہی
ہے،
ہم
نے
جو
فصلیں
جیسے
تھے
جس
سے
پینے
کے
پانی
کی
قلت
کے
اس
سیزن
میں
ہونے
والے
برف
باران
پر
موسمیات
نے
جموں
و
کشمیر
میں
برف
میٹر
سرسوں،
مختلف
سبزیاں
وغیرہ
بوئیں
شدید
بحران
کے
خطرات
بھی
پیدا
ہو
رہے
ہی
وادی
میں
پانی
کا
اس
حصار
ہے
جو
بعد
پاراں
کی
پیش
گوئی
کی
تو
انہوں
نے
اللہ
کا
تھیں
اب
ان
کی
مردہ
جان
میں
نئی
جان
تھے
وہیں
فائی
آولودگی
کی
سطح
میں
بھی
میں
جہاں
بجلی
کی
پیداوار
ے
لئے
کام
آتا
شکریہ
ادا
کیا۔
پیدا
ہوں۔
فہمیاں
پیدا
ہوں
گی۔"
موہن
بھا
کوت
نے
کہا،
بہت
سے
لوگ
آر
ایس
ایس
کو
بی
جے
پی
کے
نقطہ
نظر
سے
دیکھتے
ہیں،
جو
بہت
بڑی
سلطی
ہے۔
انہوں
نے
کہا
کہ
اگرچہ
بی
جے
پی
کے
بہت
سے
لیڈروں
کی
جڑیں
آر
ایس
ایس
میں
ہوسکتی
ہیں،
لیکن
دونوں
الگ
الگ
تنظیمیں
ہیں
جن
کے
کردار
مختلف
ہیں۔
بعد
میں
کے
کردار
بعد
کو
لکاتہ
کے
سائنس
سٹی
آڈیٹوریم
میں
منعقدہ
دوسری
تقریب
سے
خطاب
کرتے
ہوئے،
انہوں
نے
کہا
کہ
آر
ایس
ایس
سیاست
میں
شامل
نہیں
ہے
اور
اس
کا
کوئی
دشمن
نہیں
ہے۔
انہوں
نے
کہا
ک
عظیم
صرف
اور
صرف
ہند
و
سماج
کی
بہبود،
سلامتی
اور
اتحاد
کے
لیے
کام
کرتی
ہے۔
انہوں
نے
کہا،
"
آر
ایس
ایس
کو
اکثر
غلط
سمجھا
جاتا
ہے۔
بہت
سے
لوگ
اس
کا
نام
جانتے
ہیں
لیکن
اس
کے
کام
کو
نہیں
کھتے
ہیں
۔
آر
ایس
ایس
و
شنی
یا
تصادم
کی
ذہنیت
کے
ساتھ
کام
نہیں
کرتی
ہے۔
آر
ایس
ایس
کے
سربراہ
نے
کہا
کہ
آر
ایس
ایس
کا
بنیادی
مقصد
شریف
یا
اخلاق
مند
اور
ٹیک
لوگ
پیدا
کرنا
ہے
جو
خدمت،
اقدار
اور
قومی
فخر
سے
متاثر
ہوں
اور
جو
ملک
کی
ترقی
میں
اپنا
کردار
ادا
کریں۔
R.N.I
NO
OF
PAG7
22-12-2025
کا
پر
بار
یونٹ
میں
آئی
ڈوز
جایا
گیا
کریں
نئی
دہلی
21
دسمبر
(یواین
آئی)
کانگریس
نے
کہا
ہے
کہ
مریکا
قانون
کو
ختم
نے
کہا
ہے
کہ
لگا
کو
ختم
کرنے
کے
لیے
پارلیمنٹ
میں
جو
کارروائی
ی
گئی،
پر
کانگریس
پارلیمانی
پارٹی
کی
رہنما
سونیا
گاندھی
کا
یہ
بیان
بالکل
درست
ہے
کہ
مودی
حکومت
نے
مریگا
کے
نام
پر
پارلیمنٹ
میں
بلڈوز
چلا
دیا
ہے۔
ایک
انقلابی
اسکیم
قرار
دیتے
ہوئے
ہفتہ
کے
روز
کہا
تھا
کہ
مودی
حکومت
نے
اس
اسکیم
کو
ختم
کرنے
کے
لیے
پارلیمنٹ
میں
بلڈوزر
چلایا
ہے
۔
کانگریس
کے
شعید
مواصلات
کے
انچارج
جے
رام
رمیش
نے
اتوار
کو
ایک
بیان
میں
کہا
کہ
مر
گا
کے
بنیادی
کردار
کو
بدل
دیا
گیا
ہے
،
اس
اسکیم
کے
اصل
محترمہ
گاندھی
نے
ایک
بیان
میں
مریگا
کو
ڈھانچے
کو
تبدیل
کر
دیا
گیا
ہے
اور
دیہی،
محروم
اور
استحصال
زدہ
طبقات
کو
جو
روزگار
راہم
کیا
جارہا
تھا،
اسے
ختم
کر
دیا
گیا
ہے۔
انہوں
نے
مریگا
کے
تین
اصولوں
کی
وضاحت
کرتے
ہوئے
کہا
کہ
پہلا
اصول
روزگار
کی
فراہمی،
دوسرا
روزگار
کے
ذریعے
مقامی
برادری
کے
لیے
درکار
بنیادی
ڈھانچے
کو
مضبوط
بنانا
اور
ذریعہ
معاش
کو
یقینی
بنانا
اور
تیسرا
یہ
کہ
پہلے
گرام
پنچایت
طے
کرتی
تھی
کہ
کس
کو
کہاں
اور
کب
روزگار
دیا
جائ
لیکن
اب
یہ
فیصلہ
مرکزی
حکومت
کرے
گی۔
مسٹر
ہے
رام
ریش
نے
بی
جے
پی
پر
براہ
راست
حملہ
کرتے
ہوئے
کہا،
"بی
کا
گریس
کے
دور
میں
بنائے
گئے
قوانین
ئے
پی
کو
مہاتما
گاندھی
کے
نام
سے
اور
سے
شدید
نظرت
ہے۔
یہ
بات
میری
سمجھ
سے
بالاتر
ہے
کہ
ان
لوگوں
نے
اس
معاملے
میں
اتنی
مجلت
کیوں
کی۔
جو
نیا
قانون
بنایا
گیا
ہے
،
اس
پر
ریاستوں
سے
کوئی
بات
چیت
نہیں
کی
گئی۔
اس
سے
ریاستی
حکومتوں
کی
مالی
حالت
مزید
خراب
ہو
جائے
گی۔
اس
پر
کانگریس
پارلیمانی
پارٹی
کی
رہنما
سونیا
گاندھی
کا
یہ
کہنا
بالکل
درست
ہے
کہ
پارلیمنٹ
میں
بلوزر
چلایا
گیا
ہے۔
مغربی
بنگال
اردو
اکادمی
محكمه
اقلیتی
امور
و
مدرسه
تعلیم،
حکومت
مغربی
بنگال
اردو
ڈراما
فیسٹول
۲۰۲۵
7
NATIONAL
URDU
DRAMA
FESTIVAL
2025
22ND
&
23RD
DECEMBER
2025
VENUE
:SATYAJIT
RAY,
AUDITORIUM,ICCR,
9A,
HO
CHI
MINH
SARANI,
KOLKATA-71
افتتاحی
تقریب
سوموار
۲۲
دسمبر
۲۰۲۵
وقت
:
دوپہر
2:00
بجے
ول
سوریه
له
دار
مه
سے
باہر
3
بجے
غروب
طلوع
GHUROOB
THULOО
گروپ
:
قادر
علی
بیگ
تھیٹر
فاؤنڈیشن
مصنف
:
نور
بیگ
،
ہدایت
کار
:
پرم
شری
محد
علی
بیگ
RABINDRA
BHAVAN
ASANSOL
مغل
اعظم
-
ایک
تمثیل
MUGHAL-E
AZAM-EK
TAMSEEL
تاج
و
تخت
TAJ-O-TAКНТ
گروپ
:
اسپارک
تھیٹر
گروپ
کو
لکا
تا
تحریر
و
ہدایت
:
ڈاکٹر
شیخ
الماس
حسین
4:00
PM
Written
&
Directed
By
(Dr)
M
Sayeed
Alam
آپ
سے
شرکت
کی
مود
با
نہ
گزارش
ہے
نزہت
زیب،
بلدی
ایس
کی
کی
علی
کا
اداکاری
/ 8
End of Document
43

FAQs

What are the main topics covered in Akkas Urdu Daily on December 22, 2025?
The December 22, 2025 edition of Akkas Urdu Daily covers a variety of significant topics, including political developments, cultural events, and local news. Key stories include updates on government policies, community events, and notable happenings in the Urdu-speaking regions. The publication aims to provide readers with a comprehensive view of current affairs, ensuring they stay informed about issues that matter to them.
How does Akkas Urdu Daily serve the Urdu-speaking community?
Akkas Urdu Daily serves the Urdu-speaking community by providing news coverage that is relevant and accessible. The publication focuses on issues that affect the community, offering insights and analysis that resonate with its readers. By highlighting local events and national news, it fosters a sense of connection among Urdu speakers and keeps them informed about important developments.
What is the significance of the news covered in Akkas Urdu Daily?
The news covered in Akkas Urdu Daily is significant as it reflects the interests and concerns of the Urdu-speaking population. By addressing local and national issues, the publication plays a crucial role in shaping public opinion and fostering community awareness. The insights provided help readers understand the broader context of events, making it an essential resource for informed citizenship.